Pakistan

Solar Eclipse Reality in Islam and due to its important

سورج گرہن کی حقیقت اور اس کے اہم ہونے کی وجہ!

21 جون2020 کو پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں سورج گرہن ہوگا. پاکستان میں سب سے زیادہ سورج گرہن سکھر، میر پور ماتھیلو وغیرہ میں ہوگا جہاں چاند تقریباً % 99 سورج اور زمین کے درمیان حائل ہوجائے گا.

یہ گرہن ایشیا و افریقہ کے اکثر ممالک (بشمول پاکستان)، جنوب مشرقی یورپ اور شمالی آسٹریلیا میں دیکھا جا سکے گا

اللہ پاک کی عظیم نشانیوں میں سے ایک ”سورج “بھی ہے۔یہ زمین سے کئی ہزار گُنا بڑا ہے ،اِس سے روشنی اور دھوپ جیسی نعمتیں ملتی ہیں جوانسان،جانوروں اوردرختوں کی نشوونماکاسبب بنتی ہیں۔نظامِ شمسی وہ شاہکارہے جو ہمیں اپنے خالق و مالک کے موجود ہونے کی دلیل فراہم کرتا ہے ۔”سورج“دن کی علامت ہے لیکن بسااوقات قدرتِ الٰہی کا یوں اظہار ہوتا ہے کہ سورج نکلنے کے باوجود رات کاسماں بندھ جاتا ہےاسے ”سورج گہن“کہتے ہیں۔گرہن کے متعلق لوگوں کے خیالات گرہن کے متعلق کفارِعرب اور مشرکینِ ہند کے عجیب خیالات ہیں۔کفار عرب کہتے تھے کہ کسی برے آدمی کی پیدائش یا اچھے آدمی کی وفات پرگرہن لگتا ہے۔مشرکینِ ہند کا عقیدہ ہے کہ چاند اورسورج پہلے انسان تھے،انہوں نےبھنگیوں، چماروں سے کچھ قرض لیا اور ادا نہ کیا اس سزا میں انہیں گرہن لگتا ہے۔چنانچہ ہندوگرہن کے وقت بھنگیوں کو خیرات دیتے ہیں اور مانگنے والےبھنگی بھی کہتے ہیں کہ سورج مہاراج کا قرض چکاؤ۔اسلام ان لغویات سے علیحدہ ہے،وہ فرماتاہے کہ یہ اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جب چاہے چاندسورج کو نورانی کردے اور جب چاہے ان کا نورچھین لے۔ (مراۃ المناجیح، ۲/۳۷۹)




سورج گرہن(Solar Eclipse)

سورج گرہن اللہ پاک کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ جس دن آنحضرت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ انتقال کر گئے اسی دن سورج میں گہن لگا۔ بعض لوگوں نے خیال کیا کہ یہ حضرت براہیم رضی اللہ عنہ کے غم میں واقع ہوا ہے،چنانچہ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے لوگوں کوسورج گہن کی نماز پڑھنے کے بعد خطبہ دیتے ہوئے اِرشادفرمایا: ” سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں گرہن کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا۔ پس جب تم اسے دیکھو تو اللہ کو پکارو، اس کی بڑائی بیان کرو، نمازپڑھو اور صدقہ دو۔“ (بخاری،کتاب الکسوف،باب الصدقۃ فی الکسوف ۱/۳۵۷،۳۶۳ ،حدیث :۱۰۴۴،۱۰۶۰،ملخصاً)

سورج گرہن  کب لگتا ہے؟

سائنسی اعتبار سے سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب سورج اور زمین کے درمیان چاند حائل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے سورج کی روشنی بعض اوقات مکمل طور پر اور بعض اوقات جزوی طور پر ماند پڑ جاتی ہے۔ 21جون 2020 بروز اتوار سورج گرہن لگنے والا ہے۔ یہ گرہن ایشیا و افریقہ کے اکثر ممالک(بشمول پاکستان)، جنوب مشرقی یورپ اور شمالی آسٹریلیا میں دیکھا جا سکے گا۔

پاکستان میں یہ گہن سب سے زیادہ (%98.8)گوادر،لاڑکانہ،سکھر،میرپور ماتھیلواورصادق آباد وغیرہ میں ہوگا۔




ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟

 ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گرہن کے وَقْت سورج کو براہ راست دیکھنے سے آنکھ کی بینائی بھی جاسکتی ہے۔جب سورج یا چاند کو گہن لگے تومسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس نظارے سے محظوظ ہونےاور تَوَہُّمات کا شکار ہونے کے بجائے بارگاہِ الٰہی میں حاضری دیں اور گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں ،اُس یومِ قیامت کو یاد کریں جب سورج اور چاند بے نور ہوجائیں گے اور ستارے توڑدئیے جائیں گے اور پہاڑ لپیٹ دئیے جائیں گے اس موقع پربالخصوص نمازِ کُسُوف ادا کی جاتی ہے جس کا طریقہ یہ ہے یہ نَمازاورنوافِل کی طرح دو رَکعت پڑھیں یعنی ہررَکعت میں ایک رُکوع اور دو سجدے کریں نہ اس میں اذان ہے ،نہ اقامت ،نہ بُلند آواز سے قراءَ ت اورنَمازکے بعددُعاکریں یہاں تک کہ آفتاب کھل جائے اوردورَکعت سے زیادہ بھی پڑھ سکتے ہیں خواہ دو،دو رَکعت پرسلام پھیریں یاچارپر۔ (بہارشریعت،۱/۷۸۷)امامِ اہلِ سنّت ،امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں:اگر سورج گرہن عصر کے بعد یا نصف النہار کے وقت لگے تو لوگ دعا کریں گے اور نماز نہیں پڑھیں گے، اس وجہ سے کہ اِن دووقتوں میں نفل پڑھنا مکروہ ہے۔(فتاوی رضویہ ،۵/۱۲۹)

Leave a Reply

Back to top button