Surah Baqarah, the longest of the Quran Kareem

Introduction of Sūrah al-Baqarah (Arabic: سورة البقرة‎, “The Cow”) is the second and longest chapter (Surah) of the Qur’an Kareem.

This Surah 286 verses, 6201 words and 25500 letters. This is the longest Surah in the Quran Kareem. It was the first Surah to be revealed at Medina, but different verses were revealed at different times, covering quite a long period so much so that the verses with regard to riba (interest or usury) were revealed in the final days of Muhammadصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ, after the conquest of Makkah (Maariful Quran Kareem).

This Surah Start from الٓـمّٓۚ “Alif Laam Meem (Individual Letters of Arabic Alphabet).”

سورۃ البقرۃ
سورۂ بقرہ کا تعارف
مقام نزول:
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے فرمان کے مطابق مدینہ منورہ میں سب سے پہلے یہی ’’سورۂ بقرہ‘‘ نازل ہوئی ۔(اس سے مراد ہے کہ جس سورت کی آیات سب سے پہلے نازل ہوئیں۔) (خازن، تفسیرسورۃ البقرۃ، ۱/۱۹)
آیات،کلمات اور حروف کی تعداد:
اس سورت میں 40 رکوع،286آیتیں ،6121 کلمات اور25500 حروف ہیں۔
(خازن، تفسیرسورۃ البقرۃ، ۱/۱۹-۲۰)
’’بقرہ‘‘ نام رکھے جانے کی وجہ:
عربی میں گائے کو ’’ بَقَرَۃٌ‘‘کہتے ہیں اور اس سورت کے آٹھویں اور نویں رکوع کی آیت نمبر67تا73 میں بنی اسرائیل کی ایک گائے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، اُس کی مناسبت سے اِسے ’’سورۂ بقرہ ‘‘کہتے ہیں۔
سورہ ٔبقرہ کے فضائل:
احادیث میں اس سورت کے بے شمار فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ان میں سے 5فضائل درج ذیل ہیں :
(1) …حضرت ابو اُمامہ باہلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’قرآن پاک کی تلاوت کیا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنی تلاوت کرنے والوں کی شفاعت کرے گا اور دو روشن سورتیں (یعنی) ’’سورہ ٔبقرہ ‘‘اور’’ سورۂ اٰل عمران‘‘ پڑھا کرو کیونکہ یہ دونوں قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جس طرح دو بادل ہوں یا دو سائبان ہوں یا دو اڑتے ہوئے پرندوں کی قطاریں ہوں اور یہ دونوں سورتیں اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کریں گی،’’سورۂ بقرہ‘‘ پڑھا کرو کیونکہ ا س کو پڑھتے رہنے میں برکت ہے اور نہ پڑھنے میں (ثواب سے محروم رہ جانے پر) حسرت ہے اور جادو گر اس کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔(مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب فضل قراء ۃ القرآن وسورۃ البقرۃ، ص۴۰۳، الحدیث: ۲۵۲(۸۰۴))

Leave a Reply

Back to top button